28 فروری 2023 - 19:38
ہماری جنگ فلسطین سے غاصبوں کے اخراج کے مرحلے میں پہنچ رہی ہے ۔۔۔ اسماعیل ہنیہ

فلسطینی مقاومتی تحریک "حماس" کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے صہیونی غاصبوں کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے پر فلسطینی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اسرائیلی دشمن کے ساتھ جنگ فلسطینیوں کے آباء و اجداد کی سرزمین سے غاصب دشمن کے مار بھگانے کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے / حماس ترجمان: مقاومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

عالمی اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ (حماس) کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے روز جمعہ (24 فروری 2023ع‍) کی صبح کو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے عوامی مظاہروں کے بعد کہا: فلسطین کی جنگ صہیونی ریاست کو نکال باہر کرنے کے مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔

اخباری ویب گاہ "قدس پریس" کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے ذرائع سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "ہماری [فلسطینی] قوم اور ہماری شجاعانہ اور بے باکانہ مقاومت (مزاحمت) کسی کو بھی مغربی کنارے میں ہماری بڑھتی ہوئی انتفاضہ تحریک دبانے کی اجازت نہیں دے گی اور کوئی بھی اس کا گلا نہیں دبا سکے گا۔ اسرائیلی دشمن کے ساتھ ہماری جنگ شجاعت کے اس مرحلے میں داخل ہوئی ہے جو غاصبوں اور قابضوں کو توڑ کر رکھے گی اور انہیں ہمارے آباء و اجداد کی سرزمین سے نکال باہر کرے گی"۔

اسماعیل ہنیہ نے مزید کہا: "شہداء کے خون، اسیروں کے دکھ درد، آزادی کے بنیادی اسلامی ہدف، فلسطینی مہاجرین کی واپسی اور فلسطین کی مکمل خودمختاری اور آزادی کو کچلنے کے سلسلے میں انجام پانے والی تمام تر مایوسانہ کوششیں اور خطرناک سازشیں فلسطینی عوام کے انقلاب کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں گی۔ اس انقلاب کی لہریں سڑکوں پر جاری ہوئی ہیں اور ہر حریت پسند اور سربلند انسان اس کی طرف راغب ہو جائے گا۔ ہم اپنی جان اور خون کا نذرانہ دے کر اس انقلاب کی آبیاری کریں گے، پرچموں کو قدس کے میناروں اور مسجد الاقصیٰ کی گنبد نیز مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات پر لہرائیں گے"۔

انھوں نے "عرین الاسود" نامی مجاہد تنظیم کی دعوت کو لبیک کہنے پر فلسطینی عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا: "صرف ہمارے وہ عوام جو اس سرزمین میں سکونت پذیر ہیں، یا سرحدوں میں تعینات ہیں، فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں اور مسائل کے حل کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں اور گرہیں ان ہی کے ہاتھوں کھلتی ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو اس سرزمین اور اس ملک [متحدہ فلسطین] میں اور اس سرزمین کے نیچے اس مٹی کے مستقبل کا تعین کریں گے نہ وہ جو مغربی سے ڈکٹیشن دیتے ہیں اور نہ وہ جو عرب ممالک میں ہماری سرزمین کے غاصبوں کے ساتھ سازباز کرتے ہیں"۔

واضح رہے کہ مقاومتی تنظیم "عرین الاسود" نے صہیونی ریاست کے خلاف نابلس کے عوام کی جدوجہد کی حمایت کے لئے، مغربی کنارے  اور غزہ کے عوام سے ریلیوں اور مظاہروں کی اپیل کی تھی اور یہ مظاہرے گذشتہ جمعرات کو انجام دیئے گئے۔ مظاہرین نے فلسطینی نوجوانوں سے مقاومتی کاروائیوں میں شرکت کی اپیل کی۔

حماس کے ترجمان کا اعلان

ادھر حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ "حماس" نے بھی کہا ہے کہ صہیونیوں کے خلاف مقاومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور ہم غاصبوں کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

الاقصیٰ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ترجمان، حازم قاسم نے کہا: غزہ کی پٹی میں سرگرم عمل مقاومت ملت فلسطین کا مضبوط قلعہ اور سونتی ہوئی تلوار ہے اور ملت کے دفاع کے لئے ہردم تیار ہے اور صہیونی دشمن کے تمام اقدامات کی نگرانی کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا: فلسطینی قوم صہیونی دشمن کے تمام جرائم اور فلسطینیوں کے قتل عام کے برعکس اپنے انقلاب کو تمام میدانوں میں جاری رکھتی ہے اور اس کے خلاف ہونے والی سازشیں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔

انھوں نے کہا: ہم نے میزائل کے مقابلے میں میزائل کا قاعدہ منوا لیا ہے اور ہر لمحہ غاصبوں کی جارحیت سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔

اسی اثناء میں کچھ ذرائع نے خبر دی ہے کہ نابلس میں فلسطینیوں پر صہیونی درندوں کے حملے کے جواب میں، مقاومت فلسطین نے صہیونی ٹھکانوں کو میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ غاصب یہودی ریاست کے مسلح گماشتوں (صہیونی فوج) نے بدھ 22 فروری کو مغربی کنارے میں واقع شہر نابلس پر حملہ کرکے 11 فلسطینیوں کو شہید اور 102 افراد کو زخمی کیا تھا۔ جس کے بعد مقاومتی تحریکوں اور تنظیموں نے اس وحشیانہ یلغار کا جواب دینے پر تاکید کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110